دل برداشتہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - وہ جس کا دل کسی امر یا شے سے اچاٹ ہو جائے، اکتایا ہوا، بے زار۔ "برصغیر کے سارے مسلمانوں کو زبان کے مسئلے نے دل برداشتہ کر دیا۔"      ( ١٩٧٧ء، ہندی اردو تنازع، ٢٣١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد 'دل' کے ساتھ فارسی مصدر 'برداشتن' سے حالیہ تمام 'برداشتہ' لگا کر مرکب بنایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٠٢ء کو "باغ و بہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ جس کا دل کسی امر یا شے سے اچاٹ ہو جائے، اکتایا ہوا، بے زار۔ "برصغیر کے سارے مسلمانوں کو زبان کے مسئلے نے دل برداشتہ کر دیا۔"      ( ١٩٧٧ء، ہندی اردو تنازع، ٢٣١ )